نئی دہلی، 23؍اگست (ایس او نیوز/آئی این ایس انڈیا)مرکزی الیکشن کمیشن کے ایک فیصلے نے ان پارٹیو ں کو بہت بڑی راحت دی ہے، جن کی کارکردگی گزشتہ لوک سبھا انتخابات میں خراب یا بہت خراب رہی تھی ۔بہوجن سماج پارٹی (بی ایس پی)، نیشنلسٹ کانگریس پارٹی (این سی پی) اور کمیونسٹ پارٹی آف انڈیا (سی پی آئی)جیسی پارٹیوں کے لیے الیکشن کمیشن کا یہ فیصلہ راحت بھر ا ہے کہ اب ان پارٹیوں کی قومی شناخت کے بارے میں فیصلہ 2019کے لوک سبھا انتخابات کے بعد کیا جائے گا، کیونکہ اگر موجودہ قوانین کے حساب سے فیصلہ لیاجاتاتوان پارٹیوں کے قومی منظوری ختم ہو جاتی۔قومی پارٹی ہونے کے لیے کسی بھی پارٹی کو کم سے کم 11نشستیں جیتنی ہوتی ہیں جو الگ الگ تین ریاستوں میں ہوں۔دوسری متبادل شرط یہ ہے کہ گزشتہ لوک سبھا یا اسمبلی انتخابات میں چار ریاستوں میں کل ووٹوں کا چھ فیصد ووٹ ملا ہو اور ساتھ میں 4 لوک سبھا نشستیں جیتی ہوں، یا تیسری شرط یہ ہے کہ پارٹی کو 4 ریاستوں میں علاقائی پارٹی کا درجہ حاصل ہو۔فی الحال کانگریس اور بی جے پی کے علاوہ مارکسی کمیونسٹ پارٹی آف انڈیا (سی پی ایم)سی پی آئی، بی ایس پی اور این سی پی کے پاس قومی پارٹی کا درجہ ہے۔2014میں بی ایس پی کو ایک بھی لوک سبھا سیٹ حاصل نہیں ہوئی ہے ، این سی پی کو 6 سیٹیں تو ملیں، لیکن ووٹ فیصد 1.6فیصد ہو گیا۔سی پی آئی تو ایک ہی نشست جیت پائی اوراس کا ووٹ شیئر ایک فیصد سے بھی کم رہا۔حال یہ ہے کہ2004میں 44نشستیں جیت کربی جے پی اور کانگریس کے بعدسب سے بڑی پارٹی رہی سی پی ایم کی شناخت پر بھی خطرے کے بادل منڈلا رہے ہیں۔گزشتہ دنوں اپنی قومی پارٹی کی شناخت کوبچانے کے لیے یہاں الیکشن کمیشن میں کئی پارٹیوں نے اپنا موقف رکھا، جس کے بعد کمیشن نے فیصلہ کیا ہے کہ اب قومی پارٹی کی سطح کا جائزہ ہر دو انتخابات کے بعد لیا جائے گا ، حالانکہ اصل قانون جو ہیں، وہی رہیں گے۔6 قومی پارٹیوں کے علاوہ ملک میں60سے زائد منظور شدہ علاقائی پارٹیاں ہیں۔اس منظوری کے کئی فوائد ہیں۔جیسے ایک قومی پارٹی کوپورے ملک میں ایک ہی انتخابی نشان ملتا ہے۔پارٹی کے دفتر کے لیے زمین اور عمارت د ی جاتی ہے۔ریڈیو اور ٹی وی پرالیکشن کے وقت تشہیر کا مفت وقت دیا جاتا ہے اور الیکشن کے وقت40اسٹار کیمپینرو ں کا خرچ کسی امیدوار کے انتخابی اخراجات میں شامل نہیں ہوتا ۔اب2019تک کئی ایسی پارٹیوں کو راحت مل گئی ہے جن کی کارکردگی گزشتہ لوک سبھاانتخابات میں خراب تھی۔اب اگلے انتخابات میں یہ پارٹیاں اقتدار کے دروازے تک پہنچتی ہیں یا نہیں لیکن شناخت بچانے کی کوشش میں ضرورلگی ہوں گی۔